میں اور میرا ملحد دوست || Me and My Atheist Friend

 < میں اور میرا ملحد دوست >


جب میں (مدثر - Edward Steve) کالج میں 3rd Year میں تھا تو اس وقت ہم 9 دوستوں کا گروپ ہوتا تھا جو سارا سارا دن کالج میں بھی اور کالج کے باہر بھی اکٹھے پھرتے تھے

پھر کالج کی پڑھائی ختم ہوئی اور ہم سب مصروف ہو گئے لیکن پھر بھی ہم تمام دوست اکثر کسی دوست کی سالگرہ کے بہانے اکٹھے ہو جاتے تھے

پرسوں رات مجھے ایک دوست کا فون آیا اور مجھے کہا کہ مجھے تم سے جلد سے جلد ملنا ہے

میں نے پوچھا کیا ہوا کوئی ایمرجنسی ہے تو بتاؤ ابھی آ جاتا ہوں

کہنے لگا نہیں تم کل کو آ جانا


کل کا دن آیا تو میں صبح کے وقت ناشتہ کر کے اس کی طرف چلا گیا

اس سے ملا تو وہ کافی گھبرایا ہوا تھا

میں نے پوچھا کیا ہوا


کہنے لگا بتاتا ہوں لیکن وعدہ کرو یہ بات کسی کو نہیں بتاؤ گے تم وہ پہلے شخص ہو جس کو میں یہ بتا رہا ہوں اور وہ بھی اسلئے کیونکہ ہم دوستوں میں تم واحد ہو جو دین کے بارے میں کافی علم رکھتے ہو


میں نے کہا ٹھیک ہے فکر مت کرو تم بتاؤ کیا بات ہے


آہستہ سی آواز میں کہنے لگا کہ میں اسلام چھوڑ کر ملحد ہو گیا ہوں

اور پھر اپنی وہی بات دہرانے لگا کہ یہ بات کسی کو مت بتانا کسی دوست کو بھی نہیں اور میرے گھر والوں تک تو یہ بات کسی صورت نہیں جانی چاہیے


میں خود اس کی بات پر بہت حیران تھا لیکن میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ٹینشن نہ لو کسی کو کچھ نہیں پتا چلے گا


پھر پوچھا کہ کب سے ملحد ہو


اس نے بتایا کہ 1 مہینہ ہو گیا ہے روز کوشش کرتا تھا کہ تمہیں بتاؤں لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی کل تمہاری الحاد کے خلاف پوسٹ ملی تو میں نے سوچا کہ اب تو تمہیں بتا ہی دوں تا کہ ہم مل کر کچھ دیر بات کریں اور یا تو تم مجھے دوبارہ مسلمان کر دو یا میں تمہیں ملحد بنا دوں تا کہ مجھے تسلی ہو کہ میں اکیلا نہیں ہوں


یہ سن کہ مجھے ہنسی آ گئی اور میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اب سے ٹائم شروع کرتے ہیں اور شام مغرب سے پہلے تک کا وقت رکھتے ہیں اور تب تک کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور ہو جاۓ گا

یا تو ہم دونوں اکٹھے مغرب کی نماز پڑھیں گے یا پھر دونوں بیٹھ کے فلم دیکھیں گے


کہنے لگا ٹھیک ہے اتنا ٹائم کافی ہے


پھر ہم نے بات شروع کی میں نے اس سے پوچھا کہ اسلام چھوڑنے کی وجہ کیا تھی تو اس نے ایک وجہ بتائی

میں نے جواب دینے سے پہلے پوچھا کہ اگر یہ وجہ تھی تو اسلام چھوڑ کر ملحد ہی کیوں بنے؟ کوئی اور مذہب کیوں نہیں اختیار کیا


اس نے بتایا کہ اسے خدا کے وجود پر ہی شک ہے


میں نے کہا ٹھیک ہے اب تمہارا اصل مسئلہ پتا چل گیا ہے تو بات کرنے میں آسانی ہو گی


اس کے بعد دو  تین گھنٹے ہم اس کے گھر میں ہی بات کرتے رہے لیکن میرے پورے کیریئر میں یہ پہلی دفعہ تھا جب میں نے ملحد سے اتنی دیر بات کی اور کوئی جگت نہیں ماری بس آرام سے ہنسی مذاق میں ہی بات کو چلاتا رہا


پھر دوپہر کا وقت ہوا اس نے گاڑی نکالی اور ہم کھانا کھانے چلے گئے

کھانا کھاتے ہوۓ بھی اسی کے متعلق باتیں ہوتیں رہیں اور کھانے کے بعد ہم گاڑی میں ہی شام تک یہاں وہاں گھومتے رہے اور بات کرتے رہے


پھر مغرب سے کچھ دیر پہلے اس کے گھر آۓ اور اتنی دیر (9 گھنٹے) میں وہ مکمل طور پر مسلمان ہونے کیلئے تیار تھا

اب کہنے لگا کہ میرے سارے اعتراض ختم ہو گئے صرف ایک اعتراض باقی ہے اگر اس کا جواب تسلی بخش مل گیا تو ابھی مسلمان ہو جاؤں گا اگر نہ ملا تو ہم کل کا دن بھی اسی بحث میں گزار سکتے ہیں


میں نے کہا ٹھیک ہے پوچھو


اس نے اپنا آخری اعتراض بتایا کہ اسلام میں غلام اور لونڈیاں رکھنے کا تصور انسانیت کے خلاف ہے جبکہ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ سب لوگ برابر ہوں کوئی کسی پر حاکم نہ ہو


اس کا جواب میں نے اس کو کافی تفصیل سے دیا یوں سمجھ لیں کہ پورے گھنٹے کا خطبہ ہی دیا (اگر آپ پڑھنا چاہتے ہیں تو پاس پوسٹ کا لنک موجود ہے جس میں میں نے تفصیل سے اس اعتراض کا جواب دیا ہے)

https://www.quranosunat.com/2021/01/blog-post.html

اور اتنی دیر میں مغرب کی اذان شروع ہو گئی اور اس نے بھی کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا اور رونے بھی لگ گیا

میں نے اسے چپ کروایا


پھر اس نے کہا کہ چلو نماز پڑھنے چلتے ہیں

میں نے کہا کہ پہلے تم غسل کر لو پھر ہم مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی پڑھ لیں گے


اس نے غسل کیا اور پھر ہم نے نماز پڑھی اور میں نے اس سے پوچھا کہ آج کا واقعہ کسی کو بتا دوں تو کوئی مسئلہ تو نہیں

اس نے کہا کہ بتا دینا لیکن میرا نام وغیرہ نہ بتانا بس اپنا دوست کہہ کر ہی بتانا


پھر میں اپنے گھر آ گیا


آج صبح فجر کے وقت مسجد میں گیا وہاں کا حنفی امام میرا دوست ہی ہے اور تقریباً میرا ہم عمر ہی ہے یا تھوڑا سا بڑا ہو گا،  کبھی کبھار فارغ وقت میں کسی مسئلہ پر اس سے بات چیت ہوتی رہتی ہے جو اکثر بحث کی صورت اختیار کر جاتی ہے کیونکہ حنفیوں کے ساتھ تو میرے مسئلے ہوتے ہی رہتے ہیں


نماز کے بعد اس کو میں نے کل کا پورا واقعہ شروع سے آخر تک سنایا وہ بھی کافی خوش ہوا اور کہنے لگا باقی سب تو بہترین ہے لیکن ایک جگہ پر تم سے غلطی ہو گئی


میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا ہوا


کہنے لگا کہ جب تم دونوں نے دوپہر کو کھانا کھایا تھا وہ حرام ہو گیا ہے کیونکہ وہ کافر تھا


میں وہاں سر پکڑ کے بیٹھ گیا کہ یار تم مولویوں کی نظر کبھی کھانے سے ادھر ادھر کیوں نہیں ہوتی اگر میں تمہیں وہاں بلا لیتا تو تم نے خود بھی کھا لینا تھا اور میرے لئے بھی حلال کر دینا تھا اور حلال ہونے کی دلیل تو پھر تم نے بنا ہی لینی تھی آخر حنفی جو ہو


کھل کھلا کر ہنسنے لگا اور کہنے لگا یار تم نے اسے کوئی جگت نہیں ماری اور یہاں مجھے مارنے لگ گئے ہو


میں نے کہا تم نے بات ہی ایسی کی ہے اب میں اس کو فیس بک پر لکھوں گا


ہنستے ہوئے کہنے لگا لکھ دینا اور اگلی دفعہ ایسا کوئی موقعہ ہوا تو مجھے بھی ساتھ لے جانا پھر ہم کھانا کھانے سے پہلے اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے یا تو دونوں کھا لیں گے یا دونوں بھوکے رہیں گے۔


میں بھی ہنستے ہوۓ گھر آ گیا اور یہ پوسٹ لکھنے بیٹھ گیا جو کہ اب مکمل ہو چکی ہے

♥️

Popular posts from this blog

Jobs In Pakistan Armed Forces

Shah Wali Ullah sy Engineer Muhammad Ali Mirza tk ||شاہ ولی اللہ سے انجینئر محمد علی مرزا تک