شاہ ولی اللہ سے محمد علی مرزا تک

بات صرف محمد علی مرزا کی نہیں۔ جب قطب الدین احمد المعروف شاہ ولی اللہ نے برصغیر پاک و ہند میں 1738 میں قرآن کریم کا ترجمہ فارسی میں کیا تو روایتی مذہبی طبقے کو اپنے مخصوص مفادات پر زد پڑتی محسوس ہوئی، تو انہوں نے شاہ ولی اللہ کے اس اقدام کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ ظاہر ہے کہ شاہ صاحب نے یہ ترجمہ عوام الناس کے لیے ہی کیا تھا جو کہ عربی سے نابلد اور قرآن کو احکامات و ہدایات کی کتاب کی بجائے محض برکت کی کتاب کے طور پر پڑھتے تھے۔ کچھ روایات، جو کہ بعید از قیاس نہیں، کے مطابق بعض علماء نے انکے قتل کا فتویٰ دیا کیونکہ انکے خیال میں قرآن کا ترجمہ کرنا قرآن کی توہین ہے۔ لیکن آج شاہ ولی اللہ کو سب جانتے ہیں تو ان کی مخالفت کرنے والےمولویوں کے نام بھی تاریخ نے مٹا دیے۔ 
پھر اقبال کا دور آیا، تو اقبال کی مخالفت میں بھی مولوی حضرات پیش پیش تھے۔ جب شکوہ، جواب شکوہ لکھا پھر تو فتوؤں کا طوفان بدتمیزی بپا ہو گیا۔ لیکن جنہوں نے اقبال کی مخالفت کی ان کا نام بھی تاریخ نے مٹا دیا۔ اقبال نے سید مودوی کی "الجہاد فی الاسلام" پڑھ کر سید مودوی کو حیدرآباد دکن سے پنجاب آکر کام کرنے کا مشورہ دیا۔ یوں ایک نوجوان صحافی سید مودودی سے اللہ نے دین کا وہ کام لیا جو کہ بڑے بڑے مدارس کے سکہ بند علماء سے نا ہو سکا۔ پھر یہی لوگ مل کر سید مودودی پر بہتان تراشی میں لگ گئے حتیٰ کہ اعلان کر دیا کہ مودودی نبی یا مہدی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ آج تاریخ ان مولویوں کو مٹا چکی ہے اور سید مودوی کی فکر برصغیر سے باہر ترکی، انڈونیشیا، ملائشیا، تیونس، مصر اور شمالی افریقی ممالک تک پھیل گئی۔ پھر بہتان تراشی کرنے والوں کی اولادیں بھی سید مودودی کی فکر کے داعی بن گئے۔
پھر مفتی اسحاق فیصل آبادی کی باری آئی، جنہوں نے روایتی مذہبی مسالک کی اجارہ داری کو چیلنج کیا اور دین کو عام فہم بنا کر لوگوں کو پیش کیا۔ حب آل محمد کا اصل درس لوگوں کے دل میں بٹھایا۔ یہی انکا جرم بن گیا۔ تمام فرقوں کی نظر میں مجروح ٹھہرے۔ 
ڈاکٹر ذاکر نائیک،  ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی نے یہ ثابت کیا کہ دین کسی مدرسے سے پڑھے ہوئے مولوی کی اجارہ داری نہیں بلکہ یہ اللہ کا فضل ہے، جسکو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ ہزاروں لوگ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے لیکن فرقہ پرستوں انکے دشمن ہو گئے۔ تاریخ نے ان لوگوں کو یاد رکھ کر محفوظ کر لیا اور کچھ سال بعد انکے مخالفین کے نام بھی کسی کو یاد نا ہوں گے۔
پھر انجینیئر محمد علی کی باری آئی کہ جب سب فرقے ہاتھ دھو کر انکے پیچھے پڑ گئے۔ اسکے خلاف بہتان تراشی میں ہر فرقے کے مولوی حضرات نے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ 

               مذکورہ بالا افراد کا سب سے بڑا قصور اپنے آپکو مسلم کہنا اور رہمنائی کے لیے بزرگوں کی گمراہ کن باتوں کے بجائے قرآن و سنت کو ہدایت کا پیمانہ بنانا ہے۔  انہوں نے عوام کو یہ سکھایا کہ دلائل کی بنیاد پر کسی سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے حتیٰ کہ خود ان سے بھی۔ اسی لیے انکے ہزاروں شاگرد اود معتقدین انسے عقیدت رکھنے کے باوجود بہت سے مسائل پر کھلم کھلا ان سے اختلاف کیا۔ یہ سب کسی روایتی مذہبی فرقے سے سند یافتہ نہیں تھے اور انہوں نے دین کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچانے کا گناہ کیا۔ دنیا کے ساتھ ساتھ دین کا علم سیکھنا انکا جرم تھا۔ 
                       سوشلزم، لبرلزم، الحاد اور دوسری جدید گمراہیوں کا جواب دینا انہی کا کام تھا۔ یورپی فکر کا دلائل سے مقابلہ کرنا اور ہزاروں لوگوں کو دائرہ اسلام میں لانے والے سید مودوی، ڈاکٹر ذاکر نائیک، ڈاکٹر بلال فلپس، علامہ اسد، سید قطب ہی ان فرقہ پرستوں کے اصل دشمن ٹھہرے۔ جبکہ فرقہ پرستوں کے پاس لے دے کے فضائل اعمال اور فیضان سنت جیسی کتابیں ہیں جن کا اگر ترجمہ انگریزی میں ہو جائے تو کوئی کافر تو شاید ہی مسلمان ہو پائے لیکن بہت سے لوگ اسلام سے دور ضرور ہو جائیں گے۔ جو لوگ مسلمان کو قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے روکیں وہ کون سا اسلام سکھا رہے ہیں۔
        حیرت کی بات ہے کہ انکے جو مدارس "اسلام کے قلعے" ہیں ان سے یورپ کی فکری یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ایک بندہ سامنے نہیں آسکا۔ ہاں البتہ کچھ بزرگوں نے اس وقت جب کیمرے ایجاد نہیں ہوئے تھے ایک ایک مجلس میں لاکھوں لوگوں کو مسلمان کیا تھا لیکن پھر برا ہو سائنس کا کہ کیمرا ایجاد ہو گیا۔ کیمرے کی ایجاد کے بعد انہوں نے کافروں کو مسلمان بنانے کا کام ترک کرکےمسلمانوں کو کافر اور خود ساختہ محبت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیمانے بنا کر گستاخ رسول بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ 
ہمارے ہاں چونکہ سیاست اور مذہب دلائل کی بجائے جذبات پر چلتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو بندہ بولتے وقت منہ سے جھاگ زیادہ نکالے اور مخالف کو گالیوں سے نوازے وہی ہمارا امام سیاست و مذہب ٹھہرتا ہے۔ یقین نا آئے تو پچھلے انتخابات کے نتائج دیکھ لیجیے کہ جس نے جتنی گالیاں دیں وہ اتنا ہی کامیاب رہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے حق گو لوگوں کو بھیجا، جنہوں نے لوگوں کو مسالک اور فرقوں سے بالاتر ہو کر دین کی دعوت دی۔ یہ اللہ کے جلائے ہوئے چراغ ہیں، پھونکوں سے یہ بجھنے والے نہیں۔ان چراغوں کو جتنا بجھائیں گے یہ اتنا جلیں گے اور جتنا یہ جلیں گے اتنا ہی وہ لوگ جلیں گے جنہوں نے مذہب کے نام پر ٹھیکیداری شروع کر رکھی ہے۔ جیسا کہ فرمان بارہ تعالیٰ ہے
            عضو علیکم الانامل من الغیظ۔
ترجمہ:  تم پر غصے  کی وجہ سے انگلیاں چباتے ہیں



Previous Post Next Post