مزار شریف ارطغرل غازی رحمۃ اللہ علیہ

سوگوت ترکی میں ہے ۔ سوگوت شہر کا استنبول سے فاصلہ 227 کلومیٹر ہے۔
مختصر تاریخ عاشق رسول ارطغرل غازی رحمۃ اللہ علیہ
آپ کا پورا نام امیر غازی ارطغرل بن سلیمان شاہ قایوی ترکمانی ہے ۔ ارطغرل (Ertughrul)) ترکی زبان کا لفظ ہے اور دو لفظوں "ار" اور "طغرل" سے مل کر بنا ہے، "ار er" کے معنی آدمی، سپاہی یا ہیرو کے ہیں جبکہ "طغرل tughrul" کے معنی عقاب پرندے کے آتے ہیں،جو مضبوط شکاری پرندہ کے طور پر مشہور ہے۔یوں "ارطغرل" کے معنی عقابی شخص، عقابی سپاہی یا شکاری ہیرو وغیرہ ہوں گے۔ آپ ترک اوغوز کی شاخ قائی قبیلہ کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے اور سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ ولادت کا زمانہ سنہ 1191ء کے آس پاس کا ہے جبکہ سنہ وفات 1281ء بتائی جاتی ہے اور مدفن اناطولیہ (ترکی) کے شہر سوگوت میں واقع ہے۔ ارطغرل غازی ایک بہادر، نڈر، بے خوف، عقلمند، دلیر، ایماندار اور بارعب سپاہی تھے۔ وہ ساری عمر سلجوقی سلطنت کے وفادار رہے۔ سلطان علاٶ الدین کیقباد نے ارطغرل کی خدمات سے متاثر ہو کر ان کو سوگوت اور اس کے نواح میں واقع دوسرے شہر بطور جاگیر عطا کیے اور ساتھ ہی "سردار اعلیٰ" کا عہدہ بھی دیا۔ اس کے بعد آس پاس کے تمام ترک قبائل ان کے ماتحت آگئے تھے۔
معتبر تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ارطغرل رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق غز ترک قبائل کی شاخ قائی قبیلہ سے تھااور ان کا خاندان بیگ (سردار) کہلاتا تھا۔ یہ قبیلہ عقیدتاً اہل سنت وجماعت سے منسلک اور مسلکاً حنفی تھا۔
اسلام کی سربلندی کی خاطر ارطغرل اور دیگر عثمانی سلاطین کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی بنا پر عموماً ان کے ناموں کے ساتھ "غازی" کا لقب لگایا جاتا ہے۔ ارطغرل غازی رحمۃ اللہ علیہ عمر بھر سلجوقی سلطنت کے وفادار رہے لیکن ان کی زندگی کے آخری ایام میں سلجوقی سلطنت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں اور منگول سلطنت نے پورے اناطولیہ (موجودہ ترکی) پر قبضہ کر لیا تھا جو ان کے لیے سخت تشویش کا باعث تھا اور ان کی آرزو تھی کہ ایک عظیم اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں آئے۔ چنانچہ ارطغرل کے سب سے چھوٹے بیٹے غازی عثمان اول نے ان کا یہ خواب پورا کیا اور ایک عظیم الشان سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ جو 1922 تک رہی۔ اللہ پاک انکی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ثم آمین 
وفات کے وقت ارطغرل رحمۃ اللہ علیہ کی عمر 90 سال سے زیادہ تھی۔


Previous Post Next Post