حراست اور آپکے حقوق


اس بلاگ میں پولیس سٹیشن میں موجودگی کے دوران آپ کے حقوق کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔
تمام تفصیلات پولیس کے کوڈ آف پریکٹس سی C Practice of Code میں موجود ہیں 
1. اگر آپ کو کسی وکیل کی ضرورت ہو تو پولیس کو بتائیں، تاکہ وہ آپ کے پولیس سٹیشن میں ہونے کے دوران آپ کی مدد کر سکے۔ یہ ُمفت میں دستیاب ہے۔ 

2. اگرآپ کسی کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ پولیس سٹیشن میں ہیں تو پولیس سے بات کیجئے۔ یہ ُمفت میں دستیاب ہے۔

3. اگرآپ پولیس کے قواعد کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کو بتایئے۔ ان کو کوڈز آف پریکٹس کہا جاتا ہے۔

4. اگر آپ کو طبی مدد کی ضرورت ہو تو پولیس کو بتایئے۔ اگرآپ بیمار محسوس کرتے ہوں یا اگر آپ کو چوٹ لگی ہو تو پولیس کو بتائیں۔ طبی مدد ُمفت میں دستیاب ہے۔ 

5. اگرآپ کو کسی جُرم کے شک سے سواالت کئے جاتے ہیں، تو آپ کا کچھ کہنا الزمی نہیں ہے۔ تاہم، اگرسوال پوچھے جانے کے دوران آپ کسی ایسی بات کا ذکر نہیں کرتے جس پر بعد میں آپ عدالت میں انحصار کریں گے تو اس سے آپ کے دفاع کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آپ کی طرف سے کہی گئی کوئی بھی بات ثبوت کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔

6. پولیس کو آپ کو لازمی طور پر اُس جُرم کے بارے میں بتانا چاہیے جس کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اُس کا ارتکاب کیا ہے اور یہ بھی کہ آپ کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور کیوں حراست میں رکھا گیا ہے۔ 

7. پولیس کے لیئے یہ لازمی ہے کہ وُہ آپ یا آپ کے وکیل کو اُن دستاویزات اور ریکارڈ تک رسائی مہیا کریں جن میں یہ درج ہو کہ آپ کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور کیوں حراست میں رکھا جا رہا ہے اور جن میں آپ کے پولیس سٹیشن میں رکھے جانے کے بارے میں تفصیلات درج ہوں۔

8. اگرآپ کو مترجم کی ضرورت ہو، تو پولیس کو لازمی طور پر اُس کا انتظام کرنا ہوگا۔ آپ بعض دستاویزات کا ترجمہ بھی کروا سکتے ہیں۔ یہ مُفت میں دستیاب ہے۔

9. اگر آپ برطانوی شہری نہیں ہیں اور اپنے سفارت خانے یا کونسلیٹ سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں یا اُنہیں بتانا چاہتے ہیں کہ آپ زیرحراست ہیں، تو پولیس کو بتائیں۔ یہ مُفت میں دستیاب ہے۔

10 . پولیس کو آپ کو لازمی طور پر بتانا چاہیے کہ وہ آپ کو کتنی دیر حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

11 . اگر آپ پر الزام عائد کیا جاتا ہے اور مقدمہ عدالت میں جاتا ہے، تو آپ اور آپ کے وکیل کو عدالتی سماعت سے پیشتر استغاثہ کے پاس موجود ثبوت دیکھنے کا حق حاصل ہوگا۔
"آپ پولیس والوں سے مزید پوچھ سکتے ہیں"

برائے کرم ان معلومات کو اپنے پاس رکھیں اور جتنی جلدی ہو سکے انہیں پڑھ لیں۔ یہ پولیس سٹیشن میں ہونے کے دوران فیصلے کرنے میں آپ کی مدد کریں گی۔ 

1. اپنی مدد کے لیے کسی (وکیل سولِسٹر) کی خدمات حاصل کرنا

  • ایک وکیل قانون کے بارے میں آپ کی مدد کرسکتا ہے اور آپ کو مشورہ دے سکتا ہے۔
  • کسی وکیل سے بات کرنے کے لیے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے کوئی غلط کام کیا ہے۔
  • پولیس حراستی افسر (کسٹڈی افسر) کو لازمی طور پر آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا آپکو قانونی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ مُفت میں دستیاب ہے۔
  • پولیس کو لازمی طور پر کسی بھی وقت، دن یا رات، پولیس سٹیشن میں آپ کی موجودگی کے دوران آپ کو وکیل سے بات کرنے دینا چاہیے۔
  •  اگرآپ قانونی مشورے کے لئے کہتے ہیں تو پولیس کو عام طور پر اس وقت تک سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی جب تک آپ کو کسی وکیل سے ملنے کا موقع نہیں مل جاتا۔
  • جب پولیس آپ سے سوالات پوچھتی ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک وکیل کمرے میں آپ کے ساتھ موجود ہو۔
  • اگرآپ پولیس کو بتاتے ہیں کہ آپ کو قانونی مشورہ نہیں چاہیے لیکن اس کے بعد اپنا ارادہ تبدیل کر لیتے ہیں تو پولیس کے حراستی افسر کو بتائیں جو کسی وکیل سے رابطے کے لیے آپ کی مدد کرے گا۔
  • اگر کوئی وکیل نہیں آتا یا آپ سے پولیس سٹیشن پررابطہ نہیں کرتا، یا اگر آپ کو وکیل سے دوبارہ بات کرنے کی ضرورت ہو تو پولیس کو ان سے دوبارہ رابطہ کرنے کے لیے کہیں .

کچھ غیر سنگین نوعیت کے معاملات کے لیے مفت قانونی مدد:

  • غیر سنگین نوعیت کےمعاملات والے کُچھ مقدمات میں، مفت قانونی مشورہ Legal Aid Society کے سند یافتہ مشیران کی طرف سے ٹیلی فون پر مشورے تک محدود ہوتا ہے ماسوائے کُچھ مخصوص حالات میں جب کسی وکیل کو پولیس سٹیشن آنا چاہیے، جیسا کہ:
  • پولیس آپ سے کسی جُرم کے بارے میں سوالات پوچھنا چاہتی ہے یا کسی آنکھوں دیکھنے والے گواہ کےشناختی طریقہ کار پر عمل درآمد کرتی ہے۔
  • آپ کو کسی 'مناسب بالغ ساتھی' کی طرف سےمدد کی ضرورت ہو۔ ملاحظہ کیجئے "وُہ لوگ جنہیں مدد کی ضرورت ہو"۔
  • آپ ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کے قابل نہ ہوں، یا
  • آپ پولیس کی طرف سے سنگین نوعیت کی بدسلوکی کا الزام عائد کرتے ہوں۔

جب مفت قانونی مدد Legal Aid Society کی طرف سے ٹیلی فون پر دئیے جانے والے مفت قانونی مشورے تک محدود نہیں ہوتی ہے:

  • آپ اپنی جان پہچان کے کسی وکیل سے بات کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں اور اگر وہ لیگل ایڈ پرکام کرتے ہوں تو اس کے لیے آپ کو ادائیگی نہیں کرنا ہو گی۔ اگر آپ کسی وکیل کو نہیں جانتے یا آپ کی جان پہچان والے وکیل سے رابطہ نہیں کیا جاسکتا تو آپ ڈیوٹی پرحاضر وکیل سے بات کر سکتے ہیں۔ یہ مُفت ہے۔
  • ڈیوٹی پر حاضر وکیل کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

مفت قانونی مشورے کا بندوبست کرنے کے لیے:

  • پولیس ڈیفنس وکیل کال سنٹر Legal Aid Society سے رابطہ کرے گی۔ LAS قانونی مشورہ دینے کا بندوبست کرے گا، یا کسی ایسے وکیل کی طرف سے جس کے لیے آپ نے کہا ہو، یا ڈیوٹی پر حاضر وکیل کی طرف سے۔
  • Legal Aid Society آزاد خدمات ہیں، جو مفت قانونی مشورہ فراہم کرنے کا انتظام کرنے کے ذمہ دار ہیں اور اُن کا پولیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اگر آپ قانونی مشورے کے لیے خود ادائیگی کرنا چاہتے ہیں:

  • اگر آپ چاہیں تو تمام مقدمات میں قانونی مشورے کے لیئےادائیگی کر سکتے ہیں۔
  • جب مفت قانونی مشورہ ایل اے ایس کی طرف سے ٹیلی فون پرمشورے تک محدود ہو تو آپ تب بھی اگر چاہیں تو اپنی پسند کے کسی وکیل کے ساتھ ٹیلی فون پربات چیت کر سکتے ہیں ، لیکن اس کے لیے ادائیگی لیگل ایڈ کی طرف سے نہیں کی جائے گی اور وہ وکیل آپ کو ادائیگی کرنے کے لیئے کہہ سکتے ہیں۔ ایل اے ایس آپ کی جانب سے آپ کے اپنے وکیل سے رابطہ کریں گے۔
  • آپ اپنی پسند کے وکیل کے ساتھ علیحدگی میں بات کر سکتے ہیں، جو یا تو فون پر ہو گی یا وہ آپ سے ملنے کے لیے پولیس سٹیشن بھی آ سکتے ہیں۔
  • اگرآپ کی پسند کے وکیل سے رابطہ نہیں کیا جا سکتا تو پولیس اس کے باوجود ایل اے ایس  سے رابطہ کرے گی تاکہ ڈیوٹی پر حاضر وکیل کی طرف سےآپ کے لیے مفت قانونی مشورے کا بندوبست کیا جا سکے۔

2. کسی کو بتانا کہ آپ پولیس سٹیشن میں ہیں

  • آپ پولیس کو کہہ سکتےہیں کہ وہ کسی ایسے شخص سے رابطہ کرے جس کو یہ جاننے کی ضرورت ہو کہ آپ پولیس سٹیشن میں ہیں۔ یہ مفت میں دستیاب ہے۔ وہ جتنی جلد ہوسکا، آپ کے لیے کسی سے رابطہ کریں گے۔

3. کوڈز آف پریکٹس کو دیکھنے کے حوالے سے

  • کوڈز آف پریکٹس وہ قوانین ہیں جو آپ کو بتائیں گے کہ آپ کی پولیس سٹیشن میں موجود گی کے دوران پولیس کیا کر سکتی ہے اور کیا نہیں کر سکتی ہے۔ اُن میں وہ حقوق بھی شامل ہیں جن کا خلاصہ اس نوٹس میں دیا گیا ہے۔
  • پولیس آپ کو کوڈز آف پریکٹس پڑھنے دے گی لیکن اگراس سے پولیس کو یہ جاننے میں تاخیر ہو کہ کیا آپ نے قانون کو توڑا ہے۔تو آپ ایسا نہیں کرسکتے۔
  • اگرآپ کوڈز آف پریکٹس پڑھنا چاہتے ہیں، تو پولیس کے حراستی افسر سے بات کریں

4. اگر آپ بیمار یا زخمی ہوں تو طبی مدد حاصل کرنا

  • اگر آپ بیمار محسوس کرتے ہوں یا آپ کو کسی دوا کی ضرورت ہو تو پولیس کو بتائیں۔ وہ کسی ڈاکٹر یا نرس کو، یا کسی طبی ماہر کو بُلائیں گے اور یہ مُفت میں دستیاب ہے۔
  • آپ کو اپنی ذاتی دوا لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے لیکن پولیس کو پہلے اس کا معائنہ کرنا ہوگا۔ عام طور پر ایک نرس آپ کو پہلے دیکھے گی، لیکن اگر آپ کو ضرورت ہو تو پولیس کسی ڈاکٹر کو بھی بلائے گی ۔ آپ کسی اور ڈاکٹر کو بلانے کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں لیکن آپ کو اس کے لیے ادائیگی کرنا ہوگی۔

5. خاموش رہنے کا حق

  • اگر آپ سے مشکوک جُرم کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں، تو آپکے لئے لازمی نہیں کہ آپ جواب میں کچھ کہیں۔، اگر آپ ایسے سوالات کے جوابات میں کچھ نہیں کہتے جن پربعد میں آپ عدالت میں بھروسہ کریں گےتو اس سے آپ کے دفاع کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آپ جو بھی کہیں گے، اُس کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

6. اُس جُرم کے بارے میں جاننا جس کےارتکاب کا آپ پرشک کیا گیا ہے اور یہ جاننا کہ آپ کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور حراست میں رکھا گیا ہے۔

  • پولیس کو آپ کو لازمی طورپراُس جُرم کی نوعیت کےبارے میں بتانا چاہیے جس کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس کا ارتکاب کیا ہے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اُن کےخیال میں اس کا ارتکاب کب اور کہاں کیا گیا۔
  • پولیس کو آپ کو لازمی طور پر بتانا چاہیے کہ وہ کیوں سمجھتے ہیں کہ آپ نے جُرم کا ارتکاب کیا ہے اور جس کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں آپ کو گرفتار کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
  • پولیس اسٹیشن میں پولیس کو آپ کو لازمی طورپر بتانا چاہیے کہ وہ اس بات پر کیوں یقین رکھتے ہیں کہ آپ کو گرفتار کرنے کی ضرورت تھی۔
  • اس سے پیشتر کہ آپ سے کسی جُرم کے بارے میں سوالات پوچھے جائیں، پولیس کو اس امر کے بارے میں آپ کو اور آپ کے وکیل کو لازمی طور پر مناسب معلومات مہیا کرنی چاہیں کہ اُن کے خیال میں آپ نے کیا کیا ہے، تاکہ آپ اپنا دفاع کر سکیں، ماسوائے اُن حالات میں جب پولیس کی تفتیش کو نقصان پہنچتا ہو۔
  • یہ کسی دیگر ایسے الزامات پر لاگو ہوتا ہے جن کے بارے میں پولیس سمجھتی ہے کہ آپ نے اُن کا ارتکاب کیا ہے۔

7. آپ کی گرفتاری اور حراست کے بارے میں ریکارڈ دیکھنا

جب آپ کو کسی پولیس اسٹیشن میں حراست میں رکھا جاتا ہے، تودرج ذیل کی تکمیل پولیس کلیئے لازمی ہوتی ہے:
  • آپ کی حراست کےریکارڈ میں آپ کو گرفتار کرنے کی وجہ اور ضرورت کے بارے میں درج کریں اور یہ بھی کہ وُہ کیوں سمجھتے ہیں کہ آپ کو زیرحراست رکھا جائے۔
  • آپ کو اور آپ کے وکیل کو یہ ریکارڈ دیکھنے دے۔ اس کا انتظام پولیس کسٹڈی افسر کرے گا۔
  • یہ دیگر ایسے جرائم پر بھی لاگو ہوگا جن کےبارے میں پولیس سمجھتی ہے کہ آپ نے اُن کا ارتکاب کیا ہے۔
  • پولیس کو لازمی طور پر آپ کو اور آپ کے وکیل کو اُن دستاویزات اور مواد تک رسائی دلانا چاہیے جو آپ کی گرفتاری اور حراست کے جواز کو مؤثر طور پر چیلنج کرنے کے لئے لازمی ہے۔

8. آپ کی مدد کے لیے کسی مُترجم کو بلانا اور بعض دستاویزات کا ترجمہ کروانا

  • اگر آپ انگریزی نہیں بولتے یا سمجھتے تو پولیس آپ کی مدد کے لیے کسی ایسے شخص کا انتظام کرے گی جو آپ کی زبان بولتا ہو۔ یہ مُفت میں دستیاب ہے۔
  • اگرآپ سماعت سےمحروم ہیں یا بولنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، تو پولیس آپ کی مدد کے لیے اشاروں کی مُترجم کا انتظام کرے گی۔ یہ مُفت میں دستیاب ہے۔
  • اگرآپ انگریزی بول یا سمجھ نہیں سکتے، تو پولیس آپ کو یہ بتانے کے لئے مترجم کا انتظام کرے گی کہ وہ آپ کو کیوں حراست میں رکھ رہے ہیں۔ اس کا کیا جانا اُن تمام حالات میں لازمی ہے جب پولیس آپ کو حراست میں رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے۔
  • آپ کو حراست میں رکھنے کے ہر فیصلے کے بعد اور آپ پر کسی بھی جُرم کا الزام عائد کئے جانے کے بعد، پولیس کو لازمی طور پر آپ کو آپ کی اپنی زُبان میں درج کی گئی تفصیلات کا ریکارڈ مہیا کرنا چاہیے کہ آپ کو حراست میں کیوں رکھا جارہا ہے اور آپ پر کس جُرم کا الزام عائد کیا گیا ہے، جب تک کہ ایسا نہ کرنے کی کوئی خصوصی وجوہات موجود ہوں جو درج ذیل ہیں:
  1. اگرآپ یہ فیصلہ کرتےہیں کہ آپ کو اپنے دفاع کے لئے ریکارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ مکمل طور پر سمجھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کو پولیس سے اپنا ریکارڈ حاصل کرنے کے حق سے دستبردار ہونے کے نتائیج کی مکمل سمجھ ہے اور پولیس نے فیصلہ کرنے میں آپ کی مدد کے لئے آپ کو کسی وکیل سے مدد لینے کے لیئے کہا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا اپنی رضامندی تحریری طور پر دینا لازمی ہے۔
  2. اگرکسی تحریری ترجمہ کی بجائےکسی مُترجم کی طرف سے زبانی ترجمہ یا خلاصہ آپ کیلئے اپنے دفاع کی غرض سے کافی ہو اور آپ مکمل طور پر سمجھتے ہوں کہ کیا ہورہا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حراستی افسر(کسٹڈی افسر) اس کی اجازت دے۔
  3. جب پولیس آپ سےسوالات پوچھتی ہے اور پولیس اہلکار اُس کی سماعتی ریکارڈنگ نہیں کرتے، تو مُترجم آپ کی اپنی زبان میں پوچھے گئے سوالات اور جوابات کا ایک ریکارڈ رکھے گا۔ ایک درست ریکارڈ کے طور پر اس پردستخط کرنے سے پیشتر آپ اس کا معائنہ کرسکیں گے۔
  4. اگر آپ پولیس کو کوئی بیان دینا چاہتے ہیں، تو مُترجم اس بیان کی ایک نقل آپ کی اپنی زبان میں تیار کرے گا جو آپ کے لیے ہو گی تا کہ آپ اس کا معائنہ کر سکیں اور اس کی درستگی کی تصدیق کے لیے اس پر دستخط کریں۔
  5. آپ کو اس نوٹس کا ترجمہ حاصل کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ اگر ترجمہ دستیاب نہیں ہے، تو آپ کو لازمی طور پر کسی مترجم کے ذریعے معلومات مہیا کی جانی چاہیں اور کسی نامناسب تاخیر کے بغیر ترجمہ مہیا کیا جانا چاہیے۔

9. اپنے سفارت خانےیا کونسلیٹ سےرابطہ کرنا

اگرآپ پاکستانی شہری نہیں ہیں تو آپ پولیس کو بتا سکتے ہیں کہ آپ اپنے ہائی کمیشن، سفارت خانہ یا کونسلیٹ سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں، تا کہ انہیں بتا سکیں کہ آپ کہاں پر ہیں اور پولیس سٹیشن میں کیوں ہیں۔ وہ بھی آپ سے علیحدگی میں ملاقات کر سکتے ہیں اور آپ سے ملنے کے لیے کسی وکیل کا بندوبست کر سکتے ہیں۔

10. آپ کو کتنی دیرتک روکا جاسکتا ہے؟

  • آپ کو عام طور پر بغیر کوئی الزام عائد کئے 24 گھنٹے تک کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ اس سے لمبی مدت کے لیئے بھی ہوسکتا ہے لیکن صرف اُن جرائم کے سلسلے میں جب ایک کراؤن کورٹ میں جج اورجیوری کے ساتھ مقدمہ چلایا جا سکتا ہو اورکوئی پولیس سُپرنٹنڈنٹ یا عدالت ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہوں۔ 36 گھنٹے کے بعد صرف کوئی عدالت ہی پولیس کو بغیر جُرم کا الزام عائد کئے آپکو حراست میں رکھنے کے لیے مزید وقت دے سکتی ہے۔
  • بعض اوقات ایک سینئر پولیس افسر کو یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا آپ کو اب بھی پولیس سٹیشن میں رکھا جانا چاہیے لازمی طور پر آپ کے معاملے پر نظر ڈالنا ہو گی ۔ اس کو نظرثانی (ریویو) کہا جاتا ہے اور نظر ثانی کرنے ووالا افسر ریویو افسر ہوتا ہے۔۔ ماسوائے اُس وقت جب آپ صحت مند حالت میں نہ ہوں، آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ اس فیصلے کے بارے میں تحریری طور پر یا ریویو افسر کو ذاتی طور پر یا ٹیلی ویژن لنک پر بتانے کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کریں۔ آپ کے وکیل کو بھی آپ کی جانب سے اس فیصلے کے بارے میں اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔
  • اگر ریویو افسر آپ کو رہا نہیں کرتا ، تو آپ کو لازمی طور پر اس کی وجہ بتائی جانی چاہیے اور اس وجہ کا اندراج آپ کی حراست کے ریکارڈ )کسٹڈی ریکارڈ( میں کیا جانا چاہیے۔
  • اگرآپ کی حراست ضروری نہیں ہے تو آپ کو لازمی طورپر رہا کیا جانا چاہیے۔ اگرپولیس آپ کو بتاتی ہےکہ وہ جُرم کی تفتیش جاری رکھنا چاہتی ہے، تو آپ کو ضمانت پرنیا ضمانت کے بغیر رہا کیا جا سکتا ہے۔ اگرآپ کوضمانت پر رہا کیا جاتا ہے، تو آپ کو یہ بتانے کے لئے لازمی طور پر ایک تحریری نوٹس دیا جانا چاہیے کہ آپ کو لازمی طور پر پولیس اسٹیشن واپس آنا ہوگا اور آپ کو کسی شرائط کے بارے میں بتایا جانا چاہیے جو ہو سکتا ہے آپ کی ضمانت پر لاگو ہوتی ہوں۔
  •  جب پولیس آپ کی حراست میں توسیع کے لئے عدالت کو درخواست دینا چاہتی ہو:
  1. تو یہ لازمی ہے کہ آپ کو سماعت کے لیئے عدالت میں لایا جانا چاہیے جس کے لیئے ایک ٹیلی ویژن لنک سیٹ اپ نہ کیا گیا ہو، تاکہ آپ عدالت میں موجود افراد کو دیکھ اور سُن سکیں اور وہ بھی آپ کو دیکھ اور سُن سکیں۔
  2. ٹیلی ویژن لنک تب تک سیٹ اپ نہیں کیا جاسکتا جب تک کسٹڈی افسر اس کوموزوں نہیں سمجھتا، کسی سولیسٹر نے آپ کو اس کے استعمال کے بارے میں بتایا نہ ہو اور آپ نے اپنی رضامندی نہ دی ہو۔
  3. آپ کو لازمی طور پر اُن معلومات کی ایک نقل دی جانی چاہیے، جو عدالت کو ثبوت کے بارے میں اور اس امر کے بارے میں بتاتی ہیں کہ پولیس آپ کو کیوں حراست میں رکھنا چاہتی ہے۔
  4. آپ کو عدالت میں اپنی سماعت کیلئے اپنے ساتھ کوئی وکیل رکھنے کا حق حاصل ہے۔
  5. پولیس کو آپ کی مسلسل حراست کی اجازت صرف تب دی جائےگی جب عدالت یہ سمجھتی ہو کہ یہ ضروری ہے اور یہ کہ پولیس آپ کے مقدمے کی احتیاط کے ساتھ اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر تفتیش کر رہی ہے۔
  • اگر پولیس کے پاس آپ کو عدالت میں بھیجنے کے لئے کافی شواہد موجود ہوں، تو آپ پر پولیس اسٹیشن میں جُرم عائد کیا جا سکتا ہے، یا بذریعہ ڈاک آپ کو مقدمے کے لئے عدالت میں حاضر ہونے کے لئے کہتے ہوئے آپ پر جُرم عائد کیا جا سکتا ہے۔
Previous Post Next Post